چمن: جے ٹی آئی کے صوبائی رہنما احسان اللہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہید، ڈی سی کمپلیکس کے سامنے دھرنا
چمن (سید سردار محمد خوندائی) — چمن کے نواحی علاقے محمود آباد میں مدرسہ شیخ الحدیث مولانا شرف الدین کے قریب فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں جمعیت طلباء اسلام (جے ٹی آئی) کے صوبائی رہنما احسان اللہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی اور ضلعی رہنما سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ چمن سول ہسپتال پہنچ گئے۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما اور کارکنان بھی ہسپتال پہنچے۔
چمن سول ہسپتال سے احتجاج کا آغاز
ہسپتال میں مشاورت کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سول ہسپتال چمن سے میت کو ایمبولینس میں لے کر شروع ہونے والا احتجاجی مظاہرہ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر کمپلیکس کے سامنے دھرنے میں تبدیل ہوگیا۔
دھرنے میں جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت طلباء اسلام کے سینکڑوں کارکنوں نے دن دہاڑے درسِ حدیث کے طالب علم اور جے ٹی آئی کے صوبائی رہنما احسان اللہ کی شہادت پر شدید نعرے بازی کی اور چمن میں امن و امان کی سنگین صورتحال پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا۔
مقررین کا امن و امان کی صورتحال پر اظہار تشویش
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے ضلعی امیر مولانا عبد المنان، شیخ الحدیث مولانا شرف الدین، مفتی محمد قاسم، مولانا شمس اللہ، اے این پی کے ضلعی صدر عبد الخالق حقمل، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے اعظم خان اچکزئی، جے یو آئی کے صوبائی فنانس سیکرٹری حاجی غوث اللہ، مولانا حافظ گل اور دیگر مقررین نے کہا کہ چمن میں ڈاکوؤں کا راج ہے اور انتظامیہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید احسان اللہ گھر سے مدرسے جا رہے تھے کہ ڈاکوؤں نے انہیں نشانہ بنایا۔
ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ
مقررین نے موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے عوام کے تحفظ میں کوئی دلچسپی نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ حکام فوری طور پر اس افسوسناک واقعے کی تحقیقات کریں اور ملزمان کو گرفتار کریں، بصورت دیگر ایک بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
مقررین نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام عوام کو ڈاکوؤں، لٹیروں اور سماج دشمن عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی۔
